Search This Blog

Sunday, December 19, 2010


خاکسارتحریک کاکمرتوڑ منہ زور مہنگائی،آرجی ایس ٹی ، فلڈ سرچارج،بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباءاضافہ، امریکی ڈرون و خودکش حملوں،گمشدہ افراد کی بازیابی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی قید سے رہائی کیلئے احتجاجی مظاہرہ
19 December 2010, sunday at press club Lahor. Pakistan  

اگر ہم واقعی پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں ،ملک سے دہشت گردی، بدامنی، بدعنوانی اور کمرتوڑ مہنگائی کا خاتمہ چاہتے ہیں توہمیں دوبارہ بھائی چارے کی فضاءقائم کرنی ہوگی اورعیش و عشرت کی بجائے سادگی      اپناناہو گی۔  

ملک بحران کا نہیں عیاشی کا شکار ہے،حکمرانوں کی فضول خرچیوں اورشاہانہ زندگی اور عوامی بے حسی کا شکارہے۔

غریب اور بے سہارا عوام خودکشیاں کرنے پر مجبور اور حکمرانوں کی امریکہ نواز پالیسیوں کی وجہ سے خوفزدہ،غمزدہ اور دہشت گردی کا شکار ہیں۔

ہمیں ان حالات سے نمٹنے کیلئے ”قومی یکجہتی“ اور”مخلص لیڈر شپ“اپنے طبقے میں سے پیدا کرنا ہو گی۔ 

قائدخاکسارتحریک ڈاکٹر صبیحہ المشرقی


لاہور(          )قائدخاکسارتحریک ڈاکٹر صبیحہ المشرقی نے کہا کہ ہر طرف ےہ بحث جاری ہے کہ ملک غربت اور گرانی کے بحران کا شکار ہے، بات اس کے برعکس ہے ملک بحران کانہیں عیاشی کا شکار ہے۔حکمرانوں کی فضول خرچیوں اورشاہانہ زندگی کا شکارہے۔اگر ہم شاپنگ مال، سٹور،پارکوں اور ہوٹلوں وغیرہ میں نظر دوڑائیں تو آپ کو ہر جگہ رش نظر آئے گا۔کوئی شاپنگ میں اپنی عیش وعشرت کا سامان خریدرہا ہے تو کوئی پارکوں میں سیر کررہا ہے۔ہر کوئی اپنی عیاشی میں مگن ہے چاہے وہ عوام ہوں ےا حکمران۔کسی کو کوئی خبرنہیں کہ ملک اس وقت کن حالات سے دوچار ہے۔اگر ہم بحران کا شکار ہیں تو پھر یہ کیا ہے؟ہم اپنی چادر سے باہر پاﺅںپھیلا تے ہیں پھر نقصان اٹھاتے ہیں اورپھر زور زورسے چلاتے اورشور مچاتے ہیں کہ ”ہائے مہنگائی مار گئی“۔
ڈاکٹر صبیحہ المشرقی نے کہا کہ اگر ہم واقعی پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں ملک سے دہشت گردی، بدامنی، بدعنوانی اور کمرتوڑ مہنگائی کا خاتمہ چاہتے ہیں توہمیں دوبارہ بھائی چارے کی فضاءقائم کرنی ہوگی اور عیش و عشرت کی بجائے سادگی اپناناہو گی۔فرقہ بندی،گروہ بندی،عیش پرستی،زرپرستی،ڈالر پرستی سمیت مغربی و ہندوانہ فضول رسم و رواج کو چھوڑنا اور انہےں لات مارنی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی اتنی ہو گئی ہے کہ دو وقت کی روٹی کھانا بھی عام آدمی کے بس سے باہر ہو چکا ہے۔نوجوان روٹی کی خاطر غلط راستے پر چل پڑے ہیں،غریب اور بے سہارا خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں،باقی ماندہ حکمرانوں کی امریکہ نواز پالیسیوں کی وجہ سے خوفزدہ،غمزدہ اور دہشت گردی کا شکار ہیں۔ہمیں ان حالات سے نمٹنے کیلئے ”قومی یکجہتی“ اور”مخلص لیڈر شپ“اپنے طبقے میں سے پیدا کرنا ہو گی۔ان خیالات کا اظہار خاکسارتحریک کی سربراہ ڈاکٹر صبیحہ المشرقی نے خاکسارتحریک کے زیر اہتمام پریس کلب کے سامنے ہفتہ وار کمرتوڑ منہ زور مہنگائی،آرجی ایس ٹی ، فلڈ سرچارج،بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباءاضافہ، امریکی ڈرون و خودکش حملوں،گمشدہ افراد کی بازیابی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی قید سے رہائی کیلئے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔



مرکزاعلیٰ خاکسارتحریک:-34ذیلدارروڈ،اچھرہ ،لاہور
٭فون نمبرز:37555251-37535116
٭فیکس:(042)37587394
http://khaksartehrik.org/ Email : media.cell@khaksartehrik.org

Sunday, December 12, 2010

فروعی اختلافات کو ہوا نہ دیں،مذہبی یگانگت پیدا کریں اور کسی فردیا گروہ کی دل آزاری نہ کریں۔ ڈاکٹر صبیحہ المشرقی




 درس حسینیت ؓ بھی یہی ہے کہ ہم نفس پر قابو پائیں،آپس میں اتحاد اور ہم آہنگی پیدا کریں،امن ویکجہتی کا مظاہرہ کریں،فروعی اختلافات کو ہوا نہ دیں،مذہبی یگانگت پیدا کریں اور کسی فردیا گروہ کی دل آزاری نہ کریں۔ ڈاکٹر صبیحہ المشرقی


خاکسارتحریک کی سربراہ ڈاکٹرصبیحہ المشرقی نے مذہبی علماءاور پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محرم الحرام میں اخوت و بھائی چارہ کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے پُر امن رہیں اپنے عقیدوں پر قائم رہیں اور کسی کے عقیدے پر کیچڑ نہ اچھالیں ۔وقت کا تقاضہ ہے کہ مسلمان آپس میں متحد و منظم رہیں تاکہ دشمن داخلی،خارجی ،ِمعاشی اور جسمانی طورپر نقصان نہ پہنچاسکے۔ڈاکٹر صبیحہ المشرقی نے کہا کہ درس حسینیتؓ بھی یہی ہے کہ ہم نفس پر قابو پائیں،آپس مےں اتحاد اور ہم آہنگی پیدا کریں،امن ویکجہتی کا مظاہرہ کریں،فروعی اختلافات کو ہوا نہ دےں،مذہبی ےگانگت پیدا کریں اور کسی فرد یا گروہ کی دل آزاری نہ کریں۔ڈاکٹرصبیحہ المشرقی نے کہا کہ خاکسارتحریک نے ہمیشہ اسلامی اخوت کا درس دیا کیونکہ یہی اسلام کا حقےقی پیغام ہے جس کی بنیاد پر ہم متحد رہ سکتے ہیں۔

خاکسارمیڈیا سیل

خاکسار تحریک کا احتجاجی مظاہرہ 12 دسمبر 2010

خاکسار تحریک کا احتجاجی مظاہرہ 12 دسمبر 2010


 بجلی وگیس کی بدترین لوڈشیڈنگ،اشیائے خوردونوش کی قلت اور امن و امان کی تشویشناک صورتحال نے پوری قوم کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔

کمر توڑ مہنگائی نے حکمرانوں کے جھوٹے اور پُر فریب دعوﺅں کا بھانڈا چوراہے میں پھوڑ دیا ہے۔
ملک میں جرائم کی بڑھتی ہوئی تعداد ، بھوک،بیروزگاری،موت مار مہنگائی اوریوٹیلٹی بلوں نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ان حالات میں نام نہاد جمہوریت کے علمبرداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقتدارچھوڑ دیں.

ڈاکٹر صبیحہ المشرقی


لاہور(          )قائدخاکسارتحریک ڈاکٹرصبیحہ المشرقی نے کہا کہ بجلی وگیس کی بدترین لوڈشیڈنگ،اشیائے خوردونوش کی قلت اور امن و امان کی تشویشناک صورتحال نے پوری قوم کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے جبکہ تجارت،صنعت اور زراعت تباہی سے دوچار ہے،کمر توڑ مہنگائی نے حکمرانوں کے جھوٹے اور پُر فریب دعوﺅں کا بھانڈا چوراہے میں پھوڑ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میںجرائم کی بڑھتی ہوئی تعداد،بھوک،بےروزگاری،موت مار مہنگائی اوریوٹیکیٹی بلوں نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے،سٹریٹ کرائم اپنے عروج پر ہیں۔ان حالات میں نام نہادجمہوریت کے علمبرداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقتدارچھوڑ دیں اسی مےں ملک و قوم کی بہتری ہے کیونکہ وہ عوام کو ریلیف اور انصاف دینے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ان خیا لات کا اظہار قائد خاکسارتحریک ڈاکٹرصبیحہ المشرقی نے خاکسارتحریک کے زےر اہتمام پریس کلب کے سامنے کمرتوڑ منہ زور مہنگائی،وکی لیکس رپورٹس،آرجی ایس ٹی ، فلڈ سرچارج ، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباءاضافہ، امریکی ڈرون و خودکش حملوں اورکراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی قید سے رہائی کیلئے ہفتہ واراحتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

http://www.facebook.com/group.php?gid=309926669380

 


 

Tuesday, December 7, 2010

یکم محرم : یوم شہادتِ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ



یکم محرم : یوم شہادتِ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

یکم محرم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی یاد دلاتا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعا کے نتیجے میں اسلام قبول کیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہادری ،سادگی ، بے لوث خدمات ، انتظامی اموراسلامی و انسانی تاریخ کے روشن پہلو ہیں ۔ مغرب نے سماجی حفاظتی انتظام آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہکے دورِ حکومت سے اپنائے۔ اللہ تعالیٰ اس بہادر سالار ، راہنماء، عظیم انسان وخلیفہ کی روح کو ہمیشہ سکون میں رکھے۔ اور ہمیں اُن کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطاءفرمائے ۔ آمین

Sunday, December 5, 2010

خاکسار تحریک کا احتجاجی مظاہرہ



خاکسارتحریک کاکمرتوڑ منہ زور مہنگائی،وکی لیکس رپورٹس،آرجی ایس ٹی ، فلڈ سرچارج،بجلی کی قیمتوںمیں حالیہ اضافہ،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباءاضافہ، امریکی ڈرون و خودکش حملوں اورکراچی ، میں ٹارگٹ کلنگ اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی قید سے رہائی کیلئے احتجاجی مظاہرہ

قومی اسمبلی سے اگر آر جی ایس ٹی بل پاس ہو گیاتو منہ زور مہنگائی کی ایسی بے لگام لہر اٹھے گی جو قومی وجود کو ہلا کر رکھ دے گی۔

عوام کے دھرنے،مظاہرے،خودکشیاں،بدحالیاں،بیروگاریاں اگر حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ہوئے پانچ فیصد امراءکیلئے کچھ اہمیت نہیں رکھتے

 ہمارے حکمران، سیاستدان، جرنیل، جاگیردار،سول و ملٹری اسیبلشمنٹ اور مذہبی اجارہ داراپنی سیاست چمکا رہے ہیں اور ملک کو اغیار و کفار کا معاشی و اقتصادی غلام بنا کر رکھ دیا ہے۔

عوام کے دھرنے،مظاہرے،خودکشیاں،بدحالیاں،بیروگاریاں اگر حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ہوئے پانچ فیصد امراءکیلئے کچھ اہمیت نہیں رکھتے تو پھر وہ وقت دور نہیںاب95وے فیصد غریب و متوسط عوام سر پے کفن باندھ کر نکل کھڑے ہوں گے اور اس دھرتی پر آنے والے عوامی انقلاب کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہ سکے گی ۔

۔ ڈاکٹر صبیحہ المشرقی


خاکسارتحریک کی سربراہ ڈاکٹرصبیحہ المشرقی نے کہا کہ پاکستانمیں قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے افکار و نظریات کی شرمناک حد تک دھھجیاں بکھیری جارہی ہیں تب ہی ملک پر آمروغاصب جرنیلوںجاگیرداروں اور نظریہ ضرورت کی حامل سول و ملٹری اشٹیبلشمنٹ نے قبضہ کیا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران،سیاستدان، جرنیل، جاگیردار،سول و ملٹری اسیبلشمنٹ اور مذہبی اجارہ داراپنی سیاست چمکا رہے ہےں اور ملک کو اغےار و کفار کا معاشی و اقتصادی غلام بنا کر رکھ دیا ہے۔آج بھی ملک پر فرنگی و امریکی ذہنیت کی معاشی و سیاسی بالادستی اورامریکی غلامی ہے۔
خاکسارتحریک کی سربراہ ڈاکٹرصبیحہ المشرقی نے کہا کہ قومی اسمبلی سے اگر آر جی ایس ٹی بل پاس ہو گیا تو منہ زور مہنگائی کی ایسی بے لگام لہر اٹھے گی جو قومی وجود کو ہلا کر رکھ دے گی اس لئے ےہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ ےہ قومی اسمبلی کے منتخب ارکان کا امتحان ہے ۔کیونکہ انہیں ووٹ لینے پھر عوام الناس کے پاس ہی آنا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کے دھرنے،مظاہرے،خودکشیاں،بدحالیاں،بیروگاریاں اگر حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ہوئے پانچ فیصد امراءکیلئے کچھ اہمیت نہیں رکھتے تو پھر وہ وقت دور نہیں جب95وے فیصد غریب و متوسط عوام سر پے کفن باندھ کر نکل کھڑے ہوں گے اور اس دھرتی پر آنے والے عوامی انقلاب کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہ سکے گی۔
مظاہرین نے دوران احتجاج مہنگائی کو ختم کرو....ور نہ حکومت چھوڑ دو،دہشت گردی کی ہر علامت ....قابل مذمت قابل مرمت، دہشت گردی ختم کراﺅ....ورنہ حکومت چھوڑ دو،آر جی اےس ٹی واپس لو دو....ورنہ حکومت چھوڑ دو،بجلی کی قیمتوں میں اضافہ واپس لو ....ورنہ حکومت چھوڑ دواور قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کو امریکی درندوں کی قید سے رہائی دلواﺅ....ورنہ حکومت چھوڑ دواور خاکسار چھائیں گے....انقلاب لائیں گے کے فلک شگاف نعرے لگائے۔



مرکزاعلیٰ خاکسارتحریک:-34ذیلدارروڈ،اچھرہ ،لاہور
٭فون نمبرز:37555251-37535116٭فیکس:(042)37587394
www.allamamashriqi.co.
 Email : khaksartehrik@yahoo.com
 

وکی لکس رپورٹس دراصل یہودی وصیہو نی سازش ہے جو پوری دنیا کے امن کو تباہ و بربادکرنے کےلئے ایک سیاسی تماشہ ہے۔


وکی لکس رپورٹس دراصل یہودی وصیہو نی سازش ہے جو پوری دنیا کے امن کو تباہ و بربادکرنے کےلئے ایک سیاسی تماشہ ہے
۔ ڈاکٹر صبیحہ المشرقی

لاہور(        )قائدخاکسارتحریک ڈاکٹرصبیحہ المشرقی نے کہا کہ وکی لکس رپورٹس دراصل یہودی وصیہو نی سازش ہے جو پوری دنیا کے امن کو تباہ و بربادکرنے کیلئے ایک سیاسی تماشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وکلی لکس رپورٹس میں نے جو انکشافات کئے گئے ہیں وہ دنیا کا ہر باشعور انسان اور خصوصاً ہر پاکستانی جانتا ہے ۔ہمیں ان انکشافات پر پریشان و بدہواس ہونے کی بجائے اپنے اصل اور گھمبیر قومی مسائل پر توجہ دینی چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ وکی لیکس کے نام نہاد انکشافات کو پاکستان کے باشعور میڈیا کو اتنا اچھالنا زیب نہیں دیتا۔سنجیدہ شعور اور فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے وطن عزیزکے تحفظ و استحکام کے راستے ڈھونڈنے میں مدد کریں۔

Saturday, December 4, 2010

علامہ مشرقی بہت عظيم الشان وجود تھا



علامہ مشرقی بہت عظيم الشان وجود تھا
ابولاثرحفيظ جالندھری
خالق قومی ترانہ پاکستان

حضرت علامہ مشرقی ! خدا انہيں غريق رحمت کرے!!
موت نے يہ قلعہ مضبوط بھی سر کر ليا۔ يہ قلعہ ايک عظيم فہيم وجود علم و
فضل و کمالات کا مجموعہ، گفتار و کردار کی ہم آہنگی کا ايک پيکر برسر کار و
برسر پيکار تھا۔ يہ قلعہ بھی ہمارے دور ميں خاص الخاص طرز کے مضبوط ترين
قلعوں ميں اپنی مثال آپ تھا۔
اس دارالحرب ميں جس کا نام نيم براعظم ہند ہے جس ميں آج ايک طرف
باطل اور دوسری طرف حق سارے عالم کے روبرو نکھر کر آمنے سامنے
کھڑے ہيں۔
يہ قلعہ اہل حق جان بازوں کی غيرت کی پرورش گاه تھا۔ اس حق نيوش نے اپنا
فرض اپنے ہی انداز سے ادا کرتے ہوئے بيرونی و اندرونی مخالفت کی آندھيوں،
طوفانوں کے مقابل اپنی بات پر ثبات کا دم بھرتے ہوئے ملت کے لئے سر فروشوں
کی ايک مخلص ترين جماعت مہيا کر دی اور وه کام کيا جو ہمارے دور ميں بے
مثال ہے۔
غنيم مرگ کے ہاتھوں آج يہ قلعہ منہدم نظر آرہا ہے۔ ليکن يہ انہدام مادی وجسمانی
وجود کا ہے يہ تو قلعہ کی ديواريں تھيں جو دست قضا نے توڑ ڈالی ہيں۔ صورت
نظروں سے اوجھل ہوئی ہے۔ معنی موجود ہيں اورےه معنی وه مجاہد ہيں جو اس
قلعہ کے قلعہ دار نے غيرت اسلامی کی بنيادوں پرسرفراز کئے ہيں يہ خود ملت
اسلاميہ کے مضبوط قلعے ہيں يہ سب ايک ملت واحده کے لئے سينہ سپر ہونے کے
لئے تيار کئے گئے ہيں۔
اس مرد جرار علامہ مشرقی کے طريق کار سے کسی کو اختلاف ہو سکتا ہے
ليکن مقصد کار وہی ہے جو ہر اسلامی سپہ سالار کا ہونا چاہيئے۔
علامہ مشرقی کے علم و کمالات کی گونا گونی اور بوقلمونی پر اہل نظر و فکر
مجھ سے بہتر روشنی ڈال رہے ہيں ميں تومحض يہ کہہ رہا ہوں کہ ميں نے ان کو
قدرے قريب سے ديکھا تھا۔ مرحوم نے بارہا برسر راه ٹوک کر مجھے مخاطب
کرنے کا شرف بھی بخشا۔ ہاں برسر راه کيوں کہ وه بھی اکثر اپنی عظيم شخصيت
کے باوجود لاہو ر کی سڑکو ں پر مجھ جيسے حقيقت ازلی پيادے ہی کی مانند با
پياده چلتے پھرتے تھے۔ ان کی سپاہيانہ وردی، ان کی قائد انہ بے تصنع شاندا ر
اور وضع دار اور غريبانہ رفتار آج بھی ميرے تصور ميں ہے ايک کوه پر شکوه
جو ساری دنيا کو سدھار نے کے افکار و مہمات اپنے اندر سمائے ہوئے زمين کی
چھاتی پر رواں دوا ں نظر آيا کرتا تھا۔
محض شاعر اور سياسی و معاشرتی آويزشوں سے الگ تھلگ محض شعر و
شاعری کے تاثر سے روحوں کو گرمانے والا گردان کرعلامہ صاحب بے تکلفانہ
مجھے پکار ليتے تھے اور ميں خود سلام کرتا تو کلام سے محروم نہ رکھتے
تھے۔ بعض اوقات ان کے ساتھ چند پيروان کار بھی ہوتے تھے ليکن اکثر علامہ
صاحب تنہا دکھائی ديتے تھے۔
مجھ ازلی خاکسار سے ان کی گفتگو خاکساری پر کبھی نہيں ہوتی تھی۔ محض
شکايات ارباب نشاط دورانحطاط اوربس يا حاصل کلام يہ ہوا کرتا تھا کہ وه ہميشہ
جو کام ميں بھی کررہا ہوں اس پر مجھے حوصلہ بخشتے اور مجھے ميری راه پر
چھوڑنے سے پہلے ميرے ہی اک جاہلانہ ترانے کا بند مجھے سنا ديتے۔ ميں نے
کسی زمانے ميں لکھا تھا کہ:
تجھے سمجھتے ہيں اہل دنيا، خراب خستہ ذليل رسوا
نہيں عياں ان پہ حال تير ا، کوئی نہيں ہم خےال تيرا
کسی کی پروا نہ کر پئے جا
ليکن علامہ مشرقی ميرے”پئے“کو نکال کر باہر کر ديتے اور اس کی جگہ اپنا
”جئے جا“ رکھ ديتے۔
کسی کی پروا نہ کجئے جا علامہ مجھے جب بھی مخاطب کرتے”اوحفيظ صاحب“
کہتے۔ حالانکہ وه امرتسری تھے ليکن ميرے لئے پشاوری لہجہ اختيار فرماتے
تھے۔ ملاقات کا يہ سرسری شرف جو سرراه گاہے گاہے اچھره کے اڈه پر يا
لاہور کے ميو ہسپتال سے نيلے گنبد تک لانے والی سڑک پر ہوتا تھا، رفتہ رفتہ
کم ہوتا گيا، کيوں کہ ميں لاہور سے دور دور اور ہی اور مقامات پر خجل خوار
رہتا ہوں۔
تاہم چند سال پہلے ميں نے ان کو جس رنگ ميں ديکھا ميرے نزديک وه رنگ
مجذبانہ تھا مجھے معلوم نہيں کہ کسی اور نے محسوس کيا ہے يا نہيں ليکن اگر
ميں غلط نہيں کہتا تو گاہے گاہے برسرراه سلام کلام کے دوران ميں نے ان
کو قدرے جذب کے عالم ميں پايا۔
”اوحفيظ صاحب!“ مجھے پکار کر ٹھہرا کراب وه اپنے اشعار سنانا شروع فرما
ديتے تھے اور مجھے واقعی اپنی عزت افزائی کا احساس ہوتا تھا ۔ وه بے اسرار
سناتے چلے جاتے تھے۔ ميں چونکہ ان کو شعر و شاعری کی دنيا سے بہت بلند
مقام پر ديکھنے کا عادی تھا۔ مجھے ان کو محض شعر کی صورت ميں اپنے
مقاصد کا اظہار فرماتے ديکھ کر اک گونہ تاسف ہوتا تھا، کيونکہ شعر کے لئے
سربگريباں رہنا لازمی شرط ہے اور مرد کار و پيکار کو سربگريباں ہونے کی
فرصت کہاں!
آه! ان کے اشعار بھی ان کی روح مجروح کے تاثرات تھے مجھے علامہ مشرقی
کے اشعارسننے کے بعد پھران سے مصافحہ کے بعد اپنی راه ليتے ہوئے ہميشہ ◌ؒ
حکيم الامت شاعر مشرق علامہ اقبال کا يہ شعر ياد آ جاتا اور ميری آنکھيں پرنم
ہوجاتيں۔
اگر کج رو ہيں انجم، آسماں تيرا ہے يا ميرا
مجھے فکر جہاں کيوں ہو؟، جہاں تيرا ہے يا ميرا
آه! يہ شعر، اس شعر پر کس نے غور کيا ہو گا۔ اقبال کوسمجھ لينے کا دعویٰ
کرنے والوں ميں سے اس شعر پر کون رويا ہو گا؟ ہاں کسی کے لئے اس شعرميں
رونے کی کون سی بات ہے؟ شعر کو محض لذت ذہنی سے زياده اہميت نہ دينے
والوں اورچٹخاره لے کر واه واه پر بات ختم کر دينے والوں کو اس ميں ايسی
کوئی بات کيو ں دکھائی دے کہ وه رو ديں!
بيچارے ہماشمانہ سہی۔ کاش علامہ اقبال کے کلام پر نقد و نظر کے استا د بھی
سينکڑوں سفيد صفحے کالے کرتے ہوئے اس شعر ميں شايد ايسی کوئی بات بھی
پاتے کہ اس کا خاص طور پر تذکره فرماتے!
شايد مجھ ايسے ہی چند بيچارے لوگ ہيں جو اقبال کے اشعار ميں اس تڑپ کو بھی
ديکھتے ہيں۔ ديکھتے ہی نہيں بلکہ اپنی روح کو بھی اس سوز سے گرماتے رہنے
کے طالب ہيں جس سوز سے يہ تڑپ پيدا ہوتی ہے، وہی چند بيچارے۔ اقبالؒ کے اس
شعر کے پردے ميں ايک ايسا عالم پاتے ہيں جس کی جھلک آنسوؤں کا منہ برسا
ديتی ہے تصور ميں خيال کيجئے اس عظيم حکيم کا جو يہ کہتا ہے:
گفتند جہان ما آيا بہ تومی سازو
گفتم کہ نہ می سازو گفتند کہ برہم زن
اقبال، ملت کا يہ عظيم حکيم لفظ کی صورت گری سے ہی نہيں بلکہ معنی سے
قلوب پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اقبال کا تصور کرو جو اپنے آنسو دلوں کی زمين ميں بوتا ہے اور ايسے ستارے
اگانے کے لئے سينہ کاری ميں لگا رہتا ہے ايسے انسانی ستارے جو کجروی اور
تفرقے کے مارے ہوئے انسانی ستاروں کے ٹکرانے سے جو حشر برپا ہے اس
سے بھی بے نياز نہيں ان سب کو راه پر لانے کے لئے کوشاں ہے۔ ہاں اقبال جس
کی نظر ميں انسانيت فقط اس صراط مستقيم پر چلنے کا نام ہے جو قرآن کريم
کی ہدايات پر انسانوں کو اقطار السمٰوات سے بھی آگے لے جانے کے لئے انسان
کامل نے انسانوں کو بتائی ہے اگر آپ اس معنی ميں صداقت کو ملحوظ رکھتے
ہيں تو يہ تصور بھی کريں کہ اقبال جو رات دن اقطار السمٰواتسے بھی زياده روشنی
حاصل کرنے کے انسانی ستاروں کی چشم بصيرت کھولنے کی فکر ميں ساری
زندگی گزار ديتا ہے۔
اقبال جوحوصلہ اور عزم وہمت کاپيامی ہے خود بھی انسان ہے۔ اس پرايک گھڑی
ايسی بھی آتی ہے کہ۔
دل ہی تو ہے نہ سنگ وخشت
جب اسے ہم لوگ يعنی انسان جو کہ کائنات حيات کے اصل ستارے ہيں اپنی کج
روی سے باز آتے نظر نہيں آتے تو اپنی ہمت و کوشش اورحوصلہ کے باوجود
پکار اٹھتا ہے کہ: يالله
اگر کج رو ہيں انجم آسماں تيرا ہے يا ميرا
پھرمجھے فکرجہاں کيوں ہو؟
مجھے يہ شعرآج کل اکثر ياد آتا ہے اور جلال الدين خوارزم شاه، اورنگزيب
عالمگير،حافظ رحمت خان روہيلہ، شہيد سلطان ٹيپو، حضرت سيد احمد بريلوی،
حضرت اسماعيل شہيد، حالی، سر سيد احمد خان، شيخ الفاضل محمدعلی جوہر،
حکيم اجمل خان اور قائداعظم پھر خود حکيم الامت کے تصورات مجھے گھير
ليتے ہيں اورميں کہہ اٹھتا ہوں ۔
لله لله کيا ہوا انجام کار آرزو!
توبہ توبہ کس قدر ہنگامہ آرائی ہوئی!
يہ سب عالی حوصلہ مردان مومن انسانی ستاروں کی کجروی کے اسباب و علل
دور کرنے کے لئے کفن بردوش رہنے والے تھے اور ہم جن کو وه برسرافلاک
پہنچانا چاہتے ہيں کہاں ہيں؟
ہرچند کہو کہ ميں۔۔۔نہيں ہيں۔
لہٰذا جب ميں علامہ مشرقی کو ان کی جدوجہد کے دوران شعر ميں اپنے جذبہ کو
بھرنے کے لئے سربگريبان رہنے کا خيال اپنے سر ميں پاتا تو مجھے آنسوؤں کے
ساتھ اقبال کا مذکوره بالا شعر ياد آ جاتا تھا اور وه عالم بھی جب انسان خد ا کے
سوا اور کچھ بھی ياد نہيں رکھ سکتا۔ شکر بھی اسی کا کرتا ہے اور شکوه بھی
اسی سے! علامہ مشرقی نے جس دور ميں ہمارے لئے قدم اٹھايا، يہ تاريخی دور
ايسے مرحلے پر تھا کہ نظم و ضبط والے سرفروشوں کو مثالی طور پر ايک
وحدت ميں لا کر دوسروں کے لئے مثال قائم کرنا محال سمجھا جا رہا تھا۔ علامہ
صاحب نے اس محال کے لفظ کو محوکر دےا! ◌ؒ
ميں نے ان مجاہدوں کو لاہور کے گلی کوچے ميں لله اکبر کا نعره بلند کرتے اور
وحدت کا دم بھرتے ہوئے ١٩۴٠ ء ميں سر کٹاتے، گولياں کھاتے مگر ثبات قدم
کے ساتھ اپنے ہی خون سے سرخروعالم آخرت کی طرف جاتے ديکھا ہے۔ آسماں
پرواز يہ مجاہد خاکسار کہلاتے تھے وه کسی پر ہاتھ نہيں اٹھاتے تھے وه محض
حق پرجم کرکھڑے ہوکر دشمنان اسلام کو صبر و ثبات کا اسلامی جوہر دکھاتے
تھے۔
خيريہ داستان خونچکاں ميرے نظميہ رزميہ ميں آرہی ہے ے ہاں فقط علامہ
مشرقی کی روح کا اثر و نفوذ دکھانا ہی ميرا مقصود ہے۔ علامہ مشرقی مجھ
عاجزکی نظرميں بہت عظيم الشان وجود تھا۔ وه قائل تھا فقط اسلام ہی کی بادشاہی
کا
ديا اس نے ہمےں ايک درس افرمان الہٰی کا
نظرڈالی نہ تھی اس نے کبھی اسباب زينت پر
خدا رحمت کرے اس پاک باطن پاک طنيت پر
”ميرے پاس خدا کی جناب سے قناعت کے بڑے خزانے ہيں اور وه زياده اس لئے
ہيں کہ ميں دوسرے مسلمانوں کی عادت کے خلاف چار آنے خرچ نہيں کرتا جب
تک کہ چھ آنے ميری جيب ميں نہ ہوں۔ اپنی چادر سے باہر تمام عمر کبھی پاؤں
نہ پھيلائے يا کبھی کوئی بدمعاشی نہيں کی، اک پسہ بچانے کے لئے ايک ميل کا
پيدل سفر بھی کر ليتا ہوں۔ وقت پر اپنی روٹی آپ پکا ليتا ہوں۔ اپنا جوتا خود گانٹھ
ليتا ہوں کپڑے کو آپ پيوند لگاتا ہوں۔ اس لئے جزرس، کفايت شعار بلکہ کنجوس
مشہور ہوں۔ ليکن الحمد لله کہ آج تک کسی کا محتاج نہيں ہوا، کسی سے قرض نہيں
ليا، کسی کا اپنے ذمے نہيں رکھا، اپنے ناخنوں کی کمائی کے بغيرکسی کا کچھ
نہيں کھايا“۔
( (علامہ عنايت لله خان المشرقی ٭ ٢٣ نومبر ١٩٣۴
علامہ مشرقی کے يہ الفاظ ميرے سينے کو تڑپا ديتے ہيں۔
( (بشکريہ:روزنامہ”جنگ“،راولپنڈی٭يکم ستمبر
١٩۶٣